نئی دہلی،26/دسمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو ایک انٹرویو میں ڈی ٹینشن سینٹر بنائے جانے کی بات پر صفائی دی- انہوں نے کہا کہ ڈی ٹینشن سنٹر بنایا جانا ایک مسلسل عمل ہے- اگر کوئی غیر ملکی شہری پکڑا جاتا ہے تو اسے اس میں رکھا جاتا ہے- تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ ملک میں ایسے کتنے سنٹر ہیں تو انہوں نے کہا کہ ابھی آسام میں ایک ہے- اس کے علاوہ میرے علم میں کوئی نہیں ہے، میں اس سلسلے میں کنفرم نہیں ہوں - واضح ہوکہ اس سے قبل اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈی ٹینشن سنٹربنانے کی باتوں کو افواہ بتایا تھا-اب عوام اس تذبذب میں ہیں کہ اس معاملہ میں سچائی کیا ہے - وہیں نیوز ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آسام میں 6ڈی ٹینشن سنٹر ہیں - انڈین ایکسپریس کے مطابق کرناٹک میں بھی ایک ڈی ٹینشن سنٹر حال ہی میں بن کر تیار ہوا ہے-جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ڈی ٹینشن سنٹر کو لے کر وزیر اعظم نے کیا کہا، اب تو اخبارات میں بھی اس کی تصاویر آ گئی ہیں؟ ڈی ٹینشن سنٹر کیوں بنا رہے ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈی ٹینشن سنٹر مسلسل عمل ہے، اگر ایک شہری پکڑا جاتا ہے تو اسے ڈی ٹینشن سنٹر میں رکھا جاتا ہے، بعد میں حوالگی کی کارروائی ہوتی ہے - دنیا کا کوئی بھی شہری یہاں گھستا رہے- یہ ٹھیک نہیں، کوئی شہری آتا ہے، جسے یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے تو اسے ڈی ٹینشن سنٹر میں رکھا جاتا ہے- یہ سالوں سے ہو رہا ہے- ڈی ٹینشن سنٹر اور این آرسی کا کوئی لینادینا نہیں ہے- جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ڈی ٹینشن سنٹر کہاں بنے ہیں اور کتنے ہیں - تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کہیں نہیں بنا ہے، صرف ایک ہے آسام میں ہے، اس کے علاوہ کوئی اور ڈی ٹینشن سنٹر نہیں ہے - جب کہ22 دسمبر کو دہلی میں واقع رام لیلا میدان میں مودی نے کہا کہ اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی ڈی ٹینشن سنٹر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں -رائٹرز کی ستمبر میں آئی ایک رپورٹ کے مطابق آسام کے گولاپاڑا میں غیر قانونی تارکین وطن کے لئے پہلاڈی ٹینشن سنٹربنایا جا رہا ہے-اس میں قریب 3 ہزار لوگوں کو رکھا جا سکتا ہے- اگست2016 میں حکومت نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ آسام میں 6ڈی ٹینشن سنٹر ہیں - ایک اور رپورٹ کے مطابق آسام میں 6 ڈٹیشن سنٹر ہیں اور ان میں 900غیر قانونی تارکین وطن کو رکھا گیا ہے-3سال کے دوران یہاں رکھے گئے لوگوں میں 28کی موت ہو گئی ہے-27نومبر 2019کو ترنمول رہنما ڈاکٹر شاتن سین کے سوال پر وزیر داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں جواب دیا تھا کہ ایسے کئی مراکز ہیں -